کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: حربی کافر سے غلام لونڈی خریدنا اور اس کا آزاد کرنا اور ہبہ کرنا۔
حدیث نمبر: Q2217
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَلْمَانَ كَاتِبْ ، وَكَانَ حُرًّا فَظَلَمُوهُ ، وَبَاعُوهُ ، وَسُبِيَ عَمَّارٌ ، وَصُهَيْبٌ ، وَبِلَالٌ ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ سورة النحل آية 71 .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اپنے ( یہودی ) مالک سے ” مکاتبت “ کر لے ۔ حالانکہ سلمان رضی اللہ عنہ اصل میں پہلے ہی سے آزاد تھے ۔ لیکن کافروں نے ان پر ظلم کیا کہ بیچ دیا اور اس طرح وہ غلام بنا دئیے گئے ۔ اسی طرح عمار ، صہیب اور بلال رضی اللہ عنہم بھی قید کر کے ( غلام بنا لیے گئے تھے اور ان کے مالک مشرک تھے ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں ایک کو ایک پر فضیلت دی ہے رزق میں ۔ پھر جن کی روزی زیادہ ہے وہ اپنی لونڈی غلاموں کو دے کر اپنے برابر نہیں کر دیتے ۔ کیا یہ لوگ اللہ کا احسان نہیں مانتے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: Q2217
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام بِسَارَةَ ، فَدَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ ، فَقِيلَ : دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ بِامْرَأَةٍ هِيَ مِنْ أَحْسَنِ النِّسَاءِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ ، مَنْ هَذِهِ الَّتِي مَعَكَ ؟ قَالَ : أُخْتِي ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : لَا تُكَذِّبِي ، حَدِيثِي فَإِنِّي أَخْبَرْتُهُمْ أَنَّكِ أُخْتِي ، وَاللَّهِ إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ ، فَقَامَ إِلَيْهَا ، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي ، فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي ، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ ، قَالَ الْأَعْرَجُ : قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَتِ : اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ ، يُقَالُ : هِيَ قَتَلَتْهُ فَأُرْسِلَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا ، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ تُصَلِّي ، وَتَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي ، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ هَذَا الْكَافِرَ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ ، فَيُقَالُ : هِيَ قَتَلَتْهُ ، فَأُرْسِلَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَيَّ إِلَّا شَيْطَانًا ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ ، وَأَعْطُوهَا آجَرَ فَرَجَعَتْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَتْ : أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ كَبَتَ الْكَافِرَ وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ابراہیم علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ( نمرود کے ملک سے ) ہجرت کی تو ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک بادشاہ رہتا تھا یا ( یہ فرمایا کہ ) ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا ۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کسی نے کہہ دیا کہ وہ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت لے کر یہاں آئے ہیں ۔ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پچھوا بھیجا کہ ابراہیم ! یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے تمہاری کیا ہوتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہے ۔ پھر جب ابراہیم علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے تو ان سے کہا کہ میری بات نہ جھٹلانا ، میں تمہیں اپنی بہن کہہ آیا ہوں ۔ اللہ کی قسم ! آج روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے ۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کو بادشاہ کے یہاں بھیجا ، یا بادشاہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ۔ اس وقت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑی ہو گئی تھیں ۔ انہوں نے اللہ کے حضور میں یہ دعا کی کہ ” اے اللہ ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول ( ابراہیم علیہ السلام ) پر ایمان رکھتی ہوں اور اگر میں نے اپنے شوہر کے سوا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے ، تو تو مجھ پر ایک کافر کو مسلط نہ کر ۔ “ اتنے میں بادشاہ تھرایا اور اس کا پاؤں زمین میں دھنس گیا ۔ اعرج نے کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ اے اللہ ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے ۔ چنانچہ وہ پھر چھوٹ گیا اور سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا ۔ سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے پھر نماز پڑھنے لگی تھیں اور یہ دعا کرتی جاتی تھیں ” اے اللہ ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر ( ابراہیم علیہ السلام ) کے سوا اور ہر موقع پر میں نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر ۔ “ چنانچہ وہ پھر تھرایا ، کانپا اور اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے ۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ابوسلمہ نے بیان کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی دعا کی کہ ” اے اللہ ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے ۔ “ اب دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ بھی وہ بادشاہ چھوڑ دیا گیا ۔ آخر وہ کہنے لگا کہ تم لوگوں نے میرے یہاں ایک شیطان بھیج دیا ۔ اسے ابراہیم ( علیہ السلام ) کے پاس لے جاؤ اور انہیں آجر ( ہاجرہ ) کو بھی دے دو ۔ پھر سارہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ دیکھتے نہیں اللہ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ساتھ میں ایک لڑکی بھی دلوا دی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2217
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2218
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ ، فَقَالَ سَعْدٌ : هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ ، فَلَمْ تَرَهُ سَوْدَةُ ، قَطُّ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ، کہ` سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کا ایک بچے کے بارے میں جھگڑا ہوا ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے ۔ اس نے وصیت کی تھی کہ یہ اب اس کا بیٹا ہے ۔ آپ خود میرے بھائی سے اس کی مشابہت دیکھ لیں ۔ لیکن عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو میرا بھائی ہے ۔ میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے ۔ اور اس کی باندی کے پیٹ کا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی صورت دیکھی تو صاف عتبہ سے ملتی تھی ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کے اے عبد ! یہ بچہ تیرے ہی ساتھ رہے گا ، کیونکہ بچہ فراش کے تابع ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں صرف پتھر ہے اور اے سودہ بنت زمعہ ! اس لڑکے سے تو پردہ کیا کر ، چنانچہ سودہ رضی اللہ عنہا نے پھر اسے کبھی نہیں دیکھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2219
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِصُهَيْبٍ : " اتَّقِ اللَّهَ ، وَلَا تَدَّعِ إِلَى غَيْرِ أَبِيكَ ، فَقَالَ صُهَيْبٌ : مَا يَسُرُّنِي أَنّ لِي كَذَا وَكَذَا ، وَأَنِّي قُلْتُ ذَلِكَ ، وَلَكِنِّي سُرِقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا ،` اللہ سے ڈر اور اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا نہ بن ۔ صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر مجھے اتنی اتنی دولت بھی مل جائے تو بھی میں یہ کہنا پسند نہیں کرتا ۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ میں تو بچپن ہی میں چرا لیا گیا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2219
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2220
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ ، أَوْ أَتَحَنَّتُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ ، وَعَتَاقَةٍ ، وَصَدَقَةٍ ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ ؟ قَالَ حَكِيمٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی انہیں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ان نیک کاموں کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے ، جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صلہ رحمی ، غلام آزاد کرنے اور صدقہ دینے کے سلسلہ میں کیا کرتا تھا کیا ان اعمال کا بھی مجھے ثواب ملے گا ؟ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی نیکیاں تم پہلے کر چکے ہو ان سب کے ساتھ اسلام لائے ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2220
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة