حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُخَاضَرَةِ ، وَالْمُلَامَسَةِ ، وَالْمُنَابَذَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق بن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسحاق بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ، مخاضرہ ، ملامسہ ، منابذہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 2208
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ التَّمْرِ حَتَّى يَزْهُوَ " ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ : مَا زَهْوُهَا ، قَالَ : تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ ، أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کو «زهو.» سے پہلے ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ۔ ہم نے پوچھا کہ «زهو.» کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ پک کے سرخ ہو جائے یا زرد ہو جائے ۔ تم ہی بتاؤ کہ اگر اللہ کے حکم سے پھل نہ آ سکا تو تم کس چیز کے بدلے میں اپنے بھائی ( خریدار ) کا مال اپنے لیے حلال کرو گے ۔