کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: درخت پر پھل، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا۔
حدیث نمبر: 2189
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ ، وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْهُ إِلَّا بِالدِّينَارِ ، وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، انہیں عطاء اور ابوزبیر نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ اس میں سے ذرہ برابر بھی درہم و دینا کے سوا کسی اور چیز ( سوکھے پھل ) کے بدلے نہ بیچی جائے البتہ عریہ کی اجازت دی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2189
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2190
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا ، وَسَأَلَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الرَّبِيعِ ، أَحَدَّثَكَ دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ، أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا ، ان سے عبیداللہ بن ربیع نے پوچھا کہ کیا آپ سے داؤد نے سفیان سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم میں بیع عریہ کی اجازت دے دی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں !
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2190
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2191
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ بُشَيْرًا ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا " ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى : إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَبِيعُهَا أَهْلُهَا بِخَرْصِهَا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا ، قَالَ : هُوَ سَوَاءٌ ؟ قَالَ سُفْيَانُ : فَقُلْتُ لِيَحْيَى : وَأَنَا غُلَامٌ إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَقُولُونَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا ، فَقَالَ : وَمَا يُدْرِي أَهْلَ مَكَّةَ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَرْوُونَهُ عَنْ جَابِرٍ ، فَسَكَتَ ، قَالَ سُفْيَانُ : إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ جَابِرًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : وَلَيْسَ فِيهِ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ؟ قَالَ : لَا .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ، البتہ عریہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں ۔ سفیان نے دوسری مرتبہ یہ روایت بیان کی ، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دے دی تھی ۔ کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے ، کھجور ہی کے بدلے میں ۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے ۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا ، اس وقت میں ابھی کم عمر تھا کہ مکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا ؟ میں نے کہا کہ وہ لوگ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے ۔ سفیان نے کہا کہ میری مراد اس سے یہ تھی کہ جابر رضی اللہ عنہ مدینہ والے ہیں ۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حدیث میں یہ ممانعت نہیں ہے کہ پھلوں کو بیچنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی نہ کھل جائے انہوں نے کہا کہ نہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2191
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة