کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بیان میں کہ کوئی بستی والا باہر والے کے لیے دلالی کر کے مول نہ لے۔
حدیث نمبر: Q2160
وَكَرِهَهُ ابْنُ سِيرِينَ ، وَإِبْرَاهِيمُ لِلْبَائِعِ وَالْمُشْتَرِي ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : إِنَّ الْعَرَبَ تَقُولُ بِعْ لِي ثَوْبًا وَهِيَ تَعْنِي الشِّرَاءَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور ابن سیرین اور ابراہیم نخعی رحمہما اللہ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے لیے اسے مکروہ قرار دیا ہے ۔ اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا کہ عرب کہتے ہیں «بع لي ثوبا‏.‏» یعنی کپڑا خرید لے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: Q2160
حدیث نمبر: 2160
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبْتَاعُ الْمَرْءُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں سعید بن مسیب نے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے مول پر مول نہ کرے اور کوئی «نجش» (دھوکہ ، فریب ) نہ کرے ، اور نہ کوئی شہری ، کسی دیہاتی کے لیے بیچے یا مول لے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2160
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہمیں اس سے روکا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت بیچے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2161
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة