کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ناپ تول کرنے والے کی مزدوری بیچنے والے پر اور دینے والے پر ہے (خریدار پر نہیں)۔
حدیث نمبر: Q2126
لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ} يَعْنِي كَالُوا لَهُمْ وَوَزَنُوا لَهُمْ كَقَوْلِهِ: {يَسْمَعُونَكُمْ} يَسْمَعُونَ لَكُمْ. وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا». وَيُذْكَرُ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «إِذَا بِعْتَ فَكِلْ، وَإِذَا ابْتَعْتَ فَاكْتَلْ».
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وإذا كالوهم أو وزنوهم يخسرون‏» ” جب وہ انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم کر دیتے ہیں “ مطلب یہ ہے کہ وہ بیچنے والے خریدنے والوں کے لیے ناپتے اور وزن کرتے ہیں ۔ جیسے دوسری آیت میں کلمہ «يسمعونكم‏» سے مراد ہے «يسمعون لكم‏.‏» ہے ۔ ویسے ہی اس آیت میں «كالوهم» سے مراد «كالوا لهم» ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھجور ناپ لو اور اپنے اونٹ کی قیمت پوری بھر لو ۔ اور عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ، جب تو کوئی چیز بیچا کرے تو ناپ کے دیا کر اور جب کوئی چیز خریدے تو اسے بھی نپوا لیا کر ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: Q2126
حدیث نمبر: 2126
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب کوئی شخص کسی قسم کا غلہ خریدے تو جب تک اس پر پوری طرح قبضہ نہ کر لے ، اسے نہ بیچے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2126
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَاسْتَعَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ ، أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ ، فَطَلَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ، فَلَمْ يَفْعَلُوا ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ ، وَعَذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَيَّ ، فَفَعَلْتُ ، ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ ، أَوْ فِي وَسَطِهِ ، ثُمَّ قَالَ : كِلْ لِلْقَوْمِ ، فَكِلْتُهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمُ الَّذِي لَهُمْ ، وَبَقِيَ تَمْرِي ، كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ " ، وَقَالَ فِرَاسٌ : عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّاهُ ، وَقَالَ هِشَامٌ : عَنْ وَهْبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جُذَّ لَهُ فَأَوْفِ لَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہمیں جریر نے خبر دی ، انہیں مغیرہ نے ، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ ( میرے باپ ) شہید ہو گئے تو ان کے ذمے ( لوگوں کا ) کچھ قرض باقی تھا ۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کوشش کی کہ قرض خواہ کچھ اپنے قرضوں کو معاف کر دیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چاہا ، لیکن وہ نہیں مانے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجور کی قسموں کو الگ الگ کر لو ۔ عجوہ ( ایک خاص قسم کی کھجور ) کو الگ رکھ اور عذق زید ( کھجور کی ایک قسم ) کو الگ کر ۔ پھر مجھے بلا بھیج ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پر یا بیچ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کر دو ۔ میں نے ناپنا شروع کیا ۔ جتنا قرض لوگوں کا تھا ۔ میں نے سب کو ادا کر دیا ، پھر بھی تمام کھجور جوں کی توں تھی ۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی کمی نہیں ہوئی تھی ۔ فراس نے بیان کیا کہ ان سے شعبی نے ، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ” برابر ان کے لیے تولتے رہے ، یہاں تک کہ ان کا پورا قرض ادا ہو گیا ۔ “ اور ہشام نے کہا ، ان سے وہب نے ، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کھجور توڑ اور اپنا قرض پورا ادا کر دے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2127
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة