حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، أَوْ يَكُونُ الْبَيْعُ خِيَارًا " ، قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ، إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ ، فَارَقَ صَاحِبَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبدالوہاب نے خبر دی ، کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، کہا کہ میں نے نافع سے سنا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، خرید و فروخت کرنے والوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں اختیار ہوتا ہے ، یا خود بیع میں اختیار کی شرط ہو ۔ ( تو شرط کے مطابق اختیار ہوتا ہے ) نافع نے کہا کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کوئی ایسی چیز خریدتے جو انہیں پسند ہوتی تو ( خریدنے کے بعد ) اپنے معاملہ دار سے جدا ہو جاتے ۔
حدیث نمبر: 2108
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا " ، وَزَادَ أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : قَالَ هَمَّامٌ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي التَّيَّاحِ ، فَقَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي الْخَلِيلِ لَمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ .
مولانا داود راز
´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابوالخلیل نے ، ان سے عبداللہ بن حارث نے اور ان سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بیچنے اور خریدنے والوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں ( معاملہ کو باقی رکھنے یا توڑ دینے کا ) اختیار ہوتا ہے ۔ احمد نے یہ زیادتی کی کہ ہم سے بہز نے بیان کیا کہ ہمام نے بیان کیا کہ میں نے اس کا ذکر ابوالتیاح کے سامنے کیا تو انہوں نے بتلایا کہ جب عبداللہ بن حارث نے یہ حدیث بیان کی تھی ، تو میں بھی اس وقت ابوالخلیل کے ساتھ موجود تھا ۔