کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: چوپایہ جانوروں اور گھوڑوں، گدھوں کی خریداری کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2097
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : بِعْنِيهِ يَعْنِي جَمَلًا صَعْبًا .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اگر کوئی سواری کا جانور یا گدھا خریدے اور بیچنے والا اس پر سوار ہو تو اس کے اترنے سے پہلے خریدار کا قبضہ پورا ہو گا یا نہیں ؟ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا ، اسے مجھے بیچ دے ۔ آپ کی مراد ایک سرکش اونٹ سے تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: Q2097
حدیث نمبر: 2097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : "كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا ، فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : جَابِرٌ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قُلْتُ : أَبْطَأَ عَلَيَّ جَمَلِي ، وَأَعْيَا ، فَتَخَلَّفْتُ ، فَنَزَلَ يَحْجُنُهُ بِمِحْجَنِهِ ، ثُمَّ قَالَ : ارْكَبْ ، فَرَكِبْتُ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَكُفُّهُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَزَوَّجْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ، قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا ، قَالَ : أَفَلَا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ، قُلْتُ : إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : أَمَّا إِنَّكَ قَادِمٌ ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَبِيعُ جَمَلَكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي ، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ ، فَجِئْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : آلْآنَ قَدِمْتَ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَدَعْ جَمَلَكَ فَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ، فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ، فَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لَهُ أُوقِيَّةً ، فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ ، فَأَرْجَحَ لِي فِي الْمِيزَانِ ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى وَلَّيْتُ ، فَقَالَ : ادْعُ لِيجَابِرًا ، قُلْتُ : الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ ، قَالَ : خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے وہب بن کیسان نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( ذات الرقاع یا تبوک ) میں تھا ۔ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ۔ اتنے میں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا جابر ! میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! حاضر ہوں ۔ فرمایا کیا بات ہوئی ؟ میں نے کہا کہ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ہے ، چلتا ہی نہیں اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں ۔ پھر آپ اپنی سواری سے اترے اور میرے اسی اونٹ کو ایک ٹیرھے منہ کی لکڑی سے کھینچنے لگے ( یعنی ہانکنے لگے ) اور فرمایا کہ اب سوار ہو جا ۔ چنانچہ میں سوار ہو گیا ۔ اب تو یہ حال ہوا کہ مجھے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پہنچنے سے روکنا پڑ جاتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، جابر تو نے شادی بھی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی جی ہاں ! دریافت فرمایا کسی کنواری لڑکی سے کی ہے یا بیوہ سے ۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو ایک بیوہ سے کر لی ہے ۔ فرمایا ، کسی کنواری لڑکی سے کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی ۔ ( جابر بھی کنوارے تھے ) میں نے عرض کیا کہ میری کئی بہنیں ہیں ۔ ( اور میری ماں کا انتقال ہو چکا ہے ) اس لیے میں نے یہی پسند کیا کہ ایسی عورت سے شادی کروں ، جو انہیں جمع رکھے ۔ ان کے کنگھا کرے اور ان کی نگرانی کرے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب تم گھر پہنچ کر خیر و عافیت کے ساتھ خوب مزے اڑانا ۔ اس کے بعد فرمایا ، کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ چاندی میں خرید لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گئے تھے ۔ اور میں دوسرے دن صبح کو پہنچا ۔ پھر ہم مسجد آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازہ پر ملے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کیا ابھی آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! فرمایا ، پھر اپنا اونٹ چھوڑ دے اور مسجد میں جا کے دو رکعت نماز پڑھ ۔ میں اندر گیا اور نماز پڑھی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ چاندی تول دے ۔ انہوں نے ایک اوقیہ چاندی جھکتی ہوئی تول دی ۔ میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جابر کو ذرا بلاؤ ۔ میں نے سوچا کہ شاید اب میرا اونٹ پھر مجھے واپس کریں گے ۔ حالانکہ اس سے زیادہ ناگوار میرے لیے کوئی چیز نہیں تھی ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ یہ اپنا اونٹ لے جا اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2097
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة