کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جو شخص مالدار کو مہلت دے۔
حدیث نمبر: 2077
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، أَنَّ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، قَالُوا : أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا ؟ قَالَ : كُنْتُ آمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا وَيَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُوسِرِ ، قَالَ : قَالَ : فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ أَبُو مَالِكٍ : عَنْ رِبْعِيٍّ : كُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ ، وَتَابَعَهُ شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ : عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيٍّ أُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ ، وَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ : عَنْ رِبْعِيٍّ ، فَأَقْبَلُ مِنَ الْمُوسِرِ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا کہا کہ ہم سے منصور نے ، ان سے ربعی بن حراش نے بیان کیا اور ان سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم سے پہلے گذشتہ امتوں کے کسی شخص کی روح کے پاس ( موت کے وقت ) فرشتے آئے اور پوچھا کہ تو نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں ؟ روح نے جواب دیا کہ میں اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھا کہ وہ مالدار لوگوں کو ( جو ان کے مقروض ہوں ) مہت دے دیا کریں اور ان پر سختی نہ کریں ۔ اور محتاجوں کو معاف کر دیا کریں ۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر فرشتوں نے بھی اس سے درگزر کیا اور سختی نہیں کی اور ابومالک نے ربعی سے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے ہیں ” کھاتے کماتے کے ساتھ ( اپنا حق لیتے وقت ) نرم معاملہ کرتا تھا اور تنگ حال مقروض کو مہلت دیتا تھا ۔ اس کی متابعت شعبہ نے کی ہے ۔ ان سے عبدالملک نے اور ان سے ربعی نے بیان کیا ، ابوعوانہ نے کہا کہ ان سے عبدالملک نے ربعی سے بیان کیا کہ ( اس روح نے یہ الفاظ کہے تھے ) میں کھاتے کماتے کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگ حال والے مقروض سے درگزر کرتا تھا اور نعیم بن ابی ہند نے بیان کیا ، ان سے ربعی نے ( کہ روح نے یہ الفاظ کہے تھے ) میں کھاتے کماتے لوگوں کے ( جن پر میرا کوئی حق واجب ہوتا ) عذر قبول کر لیا کرتا تھا اور تنگ حال والے سے درگزر کر دیتا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2077
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة