حدیث نمبر: Q2063
وَقَالَ مَطَرٌ : لَا بَأْسَ بِهِ ، وَمَا ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ إِلَّا بِحَقٍّ ، ثُمَّ تَلَا : وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ ، وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ ، وَالْفُلْكُ : السُّفُنُ الْوَاحِدُ ، وَالْجَمْعُ سَوَاءٌ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : تَمْخَرُ السُّفُنُ الرِّيحَ وَلَا تَمْخَرُ الرِّيحَ مِنَ السُّفُنِ ، إِلَّا الْفُلْكُ الْعِظَامُ .
مولانا داود راز
اور مطر وراق نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور قرآن مجید میں اس کا ذکر ہے وہ بہرحال حق ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے ( سورۃ النحل کی یہ ) آیت پڑھی «وترى الفلك مواخر فيه ولتبتغوا من فضله» ” اور تم دیکھتے ہو کشتیوں کو کہ اس میں چلتی ہیں پانی کو چیرتی ہوئی تاکہ تم تلاش کرو اس کے فضل سے ۔ “ اس آیت میں لفظ «فلك» کشتی کے معنی میں ہے ، واحد اور جمع دونوں کے لیے یہ لفظ اسی طرح استعمال ہوتا ہے ۔ مجاہد رحمہ اللہ نے ( اس آیت کی تفسیر میں ) کہا کہ کشتیاں ہوا کو چیرتی چلتی ہیں اور ہوا کو وہی کشتیاں ( دیکھنے میں صاف طور پر ) چیرتی چلتی ہیں جو بڑی ہوتی ہیں ۔
حدیث نمبر: 2063
وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ ذَكَرَ " رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ خَرَجَ إِلَى الْبَحْرِ فَقَضَى حَاجَتَهُ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ . حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، بِهَذَا .
مولانا داود راز
´لیث نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا ۔ جس نے سمندر کا سفر کیا تھا اور اپنی ضرورت پوری کی تھی ۔ پھر پوری حدیث بیان کی ۔