کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: خشکی میں تجارت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2060
وَقَوْلِهِ : رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ سورة النور آية 37 ، وَقَالَ قَتَادَةُ : كَانَ الْقَوْمُ يَتَبَايَعُونَ وَيَتَّجِرُونَ ، وَلَكِنَّهُمْ إِذَا نَابَهُمْ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِ اللَّهِ ، لَمْ تُلْهِهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ حَتَّى يُؤَدُّوهُ إِلَى اللَّهِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «رجال لا تلهيهم تجارة ولا بيع عن ذكر الله‏» ( سورۃ النور میں ) کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں کرتی ۔ قتادہ نے کہا کہ کچھ لوگ ایسے تھے جو خرید و فروخت اور تجارت کرتے تھے لیکن اگر اللہ کے حقوق میں سے کوئی حق سامنے آ جاتا تو ان کی تجارت اور خرید و فروخت انہیں اللہ کی یاد سے غافل نہیں رکھ سکتی تھی ، جب تک وہ اللہ کے حق کو ادا نہ کر لیں ۔ ( ان کو چین نہیں آتا تھا ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: Q2060
حدیث نمبر: 2060
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَا : كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلَا يَصْلُحُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ، کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی اور ان سے ابوالمنہال نے بیان کیا کہ` میں سونے چاندی کی تجارت کیا کرتا تھا ۔ اس لیے میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اور مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا کہ ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار اور عامر بن مصعب نے خبر دی ، ان دونوں حضرات نے ابوالمنہال سے سنا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونے چاندی کی تجارت کے متعلق پوچھا ، تو ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تاجر تھے ، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے چاندی کے متعلق پوچھا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ دیا تھا کہ ( لین دین ) ہاتھوں ہاتھ ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن ادھار کی صورت میں جائز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2060
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2061
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَا : كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلَا يَصْلُحُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ، کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی اور ان سے ابوالمنہال نے بیان کیا کہ` میں سونے چاندی کی تجارت کیا کرتا تھا ۔ اس لیے میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اور مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا کہ ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار اور عامر بن مصعب نے خبر دی ، ان دونوں حضرات نے ابوالمنہال سے سنا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونے چاندی کی تجارت کے متعلق پوچھا ، تو ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تاجر تھے ، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے چاندی کے متعلق پوچھا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ دیا تھا کہ ( لین دین ) ہاتھوں ہاتھ ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن ادھار کی صورت میں جائز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2061
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة