کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الجمعہ میں) یہ فرمانا کہ ”جب وہ مال تجارت آتا ہوا یا کوئی اور تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں“۔
حدیث نمبر: 2058
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَقْبَلَتْ مِنْ الشَّأْمِ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا ، فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فَنَزَلَتْ :وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11 .
مولانا داود راز
´ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا ، ان سے حصین نے ، ان سے سالم بن ابی الجعد نے کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے ۔ ( یعنی خطبہ سن رہے تھے ) کہ ملک شام سے کچھ اونٹ کھانے کا سامان تجارت لے کر آئے ۔ ( سب نمازی ) لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی باقی نہ رہا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها‏» ” جب وہ مال تجارت یا کوئی تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2058
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة