مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ملتی جلتی چیزیں یعنی شبہ والے امور کیا ہیں؟
حدیث نمبر: Q2052
وَقَالَ حَسَّانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَهْوَنَ مِنَ الْوَرَعِ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور حسان بن ابی سنان نے کہا کہ «ورع» ( پرہیزگاری ) سے زیادہ آسان کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی ، بس شبہ کی چیزوں کو چھوڑ اور وہ راستہ اختیار کر جس میں کوئی شبہ نہ ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: Q2052
حدیث نمبر: 2052
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ؟ ، جَاءَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا ، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَيْفَ ؟ وَقَدْ قِيلَ : وَقَدْ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ التَّمِيمِيِّ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین نے خبر دی ، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا ، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک سیاہ فام خاتون آئیں اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان دونوں ( عقبہ اور ان کی بیوی ) کو دودھ پلایا ہے ۔ عقبہ نے اس امر کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور مسکرا کر فرمایا ۔ اب جب کہ ایک بات کہہ دی گئی تو تم دونوں ایک ساتھ کس طرح رہ سکتے ہو ۔ ان کے نکاح میں ابواہاب تمیمی کی صاحب زادی تھیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2052
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 2053
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي ، فَاقْبِضْهُ ، قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ عَامَ الْفَتْحِ ، أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَقَالَ ابْنُ أَخِي : قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، فَقَالَ : أَخِي ، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَتَسَاوَقَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ أَخِي كَانَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي ، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " ، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` عتبہ بن ابی وقاص ( کافر ) نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص ( مسلمان ) کو ( مرتے وقت ) وصیت کی تھی کہ زمعہ کی باندی کا لڑکا میرا ہے ۔ اس لیے اسے تم اپنے قبضہ میں لے لینا ۔ انہوں نے کہا کہ فتح مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص نے اسے لے لیا ، اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور وہ اس کے متعلق مجھے وصیت کر گئے ہیں ، لیکن عبد بن زمعہ نے اٹھ کر کہا کہ میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے ، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے ۔ آخر دونوں یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور مجھے اس کی انہوں نے وصیت کی تھی ۔ اور عبد بن زمعہ نے عرض کیا ، یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے ۔ انہیں کے بستر پر اس کی پیدائش ہوئی ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عبد بن زمعہ ! لڑکا تو تمہارے ہی ساتھ رہے گا ۔ اس کے بعد فرمایا ، بچہ اسی کا ہوتا ہے جو جائز شوہر یا مالک ہو جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا ہو ۔ اور حرام کار کے حصہ میں پتھروں کی سزا ہے ۔ پھر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں ، فرمایا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کی شباہت اس لڑکے میں محسوس کر لی تھی ۔ اس کے بعد اس لڑکے نے سودہ رضی اللہ عنہ کو کبھی نہ دیکھا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2053
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 2054
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ ؟ فَقَالَ : إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ ، فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُرْسِلُ كَلْبِي وَأُسَمِّي ، فَأَجِدُ مَعَهُ عَلَى الصَّيْدِ كَلْبًا آخَرَ ، لَمْ أُسَمِّ عَلَيْهِ وَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ ، قَالَ : لَا تَأْكُلْ ، إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الْآخَرِ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی سفر نے خبر دی ، انہیں شعبی نے ، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» ( تیر کے شکار ) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے دھار کی طرف سے لگے تو کھا ۔ اگر چوڑائی سے لگے تو مت کھا ۔ کیونکہ وہ مردار ہے ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنا کتا ( شکار کے لیے ) چھوڑتا ہوں اور بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں ، پھر اس کے ساتھ مجھے ایک ایسا کتا اور ملتا ہے جس پر میں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے ۔ میں یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ دونوں میں کون سے کتے نے شکار پکڑا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ایسے شکار کا گوشت نہ کھا ۔ کیونکہ تو نے بسم اللہ تو اپنے کتے کے لیے پڑھی ہے ۔ دوسرے کے لیے تو نہیں پڑھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2054
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔