حدیث نمبر: 2646
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو علم حاصل کرنے کے ارادہ سے کہیں جائے ، تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان ( و ہموار ) کر دیتا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، معلوم ہوا کہ علم کے حصول کے لیے سفر کرنا مستحب ہے، موسیٰ علیہ السلام نے خضر علیہ السلام کے ساتھ علم حاصل کرنے کے لیے سفر کیا، اور عبداللہ بن قیس رضی الله عنہ سے ایک حدیث کے علم کے لیے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ نے ایک مہینہ کا سفر طے کیا، علماء سلف حدیث کی طلب میں دور دراز کا سفر کرتے تھے، اگر خلوص نیت کے ساتھ علم شرعی کے حصول کی کوشش کی جائے تو اللہ رب العالمین جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 2647
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَتَكِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ فَلَمْ يَرْفَعْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے نکلے تو وہ لوٹنے تک اللہ کی راہ میں ( شمار ) ہو گا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- بعض اہل علم نے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- بعض اہل علم نے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 2648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، عَنْ سَخْبَرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ ، أَبُو دَاوُدَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ، وَلَا نَعْرِفُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ كَبِيرَ شَيْءٍ وَلَا لِأَبِيهِ ، وَاسْمُ أَبِي دَاوُدَ : نُفَيْعٌ الْأَعْمَى تَكَلَّمَ فِيهِ قَتَادَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سخبرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو علم حاصل کرے گا تو یہ اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کی سند ضعیف ہے ،
۲- راوی ابوداود نفیع اعمی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ،
۳- ہم عبداللہ بن سخبرہ سے مروی زیادہ حدیثیں نہیں جانتے اور نہ ان کے باپ کی ( یعنی یہ دونوں باپ بیٹے غیر معروف قسم کے لوگ ہیں ) ، ابوداؤد کا نام نفیع الاعمیٰ ہے ۔ ان کے بارے میں قتادہ اور دوسرے بہت سے اہل علم نے کلام کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کی سند ضعیف ہے ،
۲- راوی ابوداود نفیع اعمی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ،
۳- ہم عبداللہ بن سخبرہ سے مروی زیادہ حدیثیں نہیں جانتے اور نہ ان کے باپ کی ( یعنی یہ دونوں باپ بیٹے غیر معروف قسم کے لوگ ہیں ) ، ابوداؤد کا نام نفیع الاعمیٰ ہے ۔ ان کے بارے میں قتادہ اور دوسرے بہت سے اہل علم نے کلام کیا ہے ۔