کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: نماز چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2618
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَ الْكُفْرِ وَالْإِيمَانِ تَرْكُ الصَّلَاةِ " , حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ , وَقَالَ : " بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ أَوِ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا ترک کرنا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفر اور بندے کے مابین حد فاصل نماز ہے، اگر نماز ادا کرتا ہے تو صاحب ایمان ہے، بصورت دیگر کافر ہے، صحابہ کرام کسی نیک عمل کو چھوڑ دینے کو کفر نہیں خیال کرتے تھے، سوائے نماز کے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں کی اکثریت پنج وقتہ نماز کی پابند نہیں ہے اور نہ ہی اسے پورے طور پر چھوڑنے والی بلکہ کبھی پڑھ لیتے ہیں اور کبھی نہیں پڑھتے، یہ ایسے لوگ ہیں جن میں ایمان و نفاق دونوں موجود ہیں، ان پر اسلام کے ظاہری احکام جاری ہوں گے، کیونکہ عبداللہ بن ابی جیسے خالص منافق پر جب یہ احکام جاری تھے تو نماز سے غفلت اور سستی برتنے والوں پر تو بدرجہ اولیٰ جاری ہوں گے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2618
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1078)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإیمان 35 (82) ، سنن ابی داود/ السنة 15 (4678) ، سنن النسائی/الصلاة 8 (465) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 77 (1078) ( تحفة الأشراف : 2303) ، و مسند احمد (3/370) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2619
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ، نَحْوَهُ. وَقَالَ: "بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ أَوِ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاَةِ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے اس سند سے مروی ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندے اور شرک یا بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2619
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (2618)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2620
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ اسْمُهُ : مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ تَدْرُسَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے اس سند بھی مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2620
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بما قبله (2619)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : 2746) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2621
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى , قَالَا : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ , وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ " , وفي الباب عن أَنَسٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے اور منافقین کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے ۱؎ تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں گے ہم ان پر اسلام کے احکام جاری رکھیں گے، اور جب نماز چھوڑ دیں گے تو کفار کے احکام ان پر جاری ہوں گے، کیونکہ ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز ہے، اور جب نماز چھوڑ دی تو گویا معاہدہ ختم ہو گیا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2621
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1079)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الصلاة 8 (464) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 77 (1079) ( تحفة الأشراف : 1960) ، و مسند احمد (5/346، 355) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2622
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ : " كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : سَمِعْت أَبَا مُصْعَبٍ الْمَدَنِيَّ , يَقُولُ : مَنْ قَالَ الْإِيمَانُ قَوْلٌ يُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَ وَإِلَّا ضُرِبَتْ عُنُقُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ` صحابہ کرام ( رضی الله عنہم ) نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑ دینے کو کفر نہیں سمجھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
میں نے ابومصعب مدنی کو کہتے ہوئے سنا کہ جو یہ کہے کہ ایمان صرف قول ( یعنی زبان سے اقرار کرنے ) کا نام ہے اس سے توبہ کرائی جائے گی ، اگر اس نے توبہ کر لی تو ٹھیک ، ورنہ اس کی گردن مار دی جائے گی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2622
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح صحيح الترغيب (1 / 227 / 564)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : لم یذکرہ المزي في المراسیل) (صحیح)»