کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2566
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ أُرَهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَغْبِطُهُمُ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ : رَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَرَجُلٌ يَؤُمُّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَأَبُو الْيَقْظَانِ اسْمُهُ : عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ وَيُقَالُ : ابْنُ قَيْسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے “ ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے فرمایا : ” قیامت کے دن ، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے : ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے ، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2566
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (666) ، نقد التاج (184) ، التعليق الرغيب (1 / 110) // ضعيف الجامع الصغير (2579) وتقدم برقم (339 / 2069) // , شیخ زبیر علی زئی: (2566) إسناده ضعيف / تقدم: 1986
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 1986 (ضعیف) (سند میں ابوالیقظان ضعیف مدلس اور مختلط راوی ہے، تشیع میں بھی غالی ہے)»
حدیث نمبر: 2567
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ : رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ صَدَقَةً بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا " , أُرَهُ قَالَ : " مِنْ شِمَالِهِ ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ كَثِيرُ الْغَلَطِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے : ایک وہ آدمی جو رات میں اٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے ، دوسرا وہ آدمی جو اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے اور اسے چھپائے اور تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور ہار جانے کے بعد پھر بھی دشمنوں کا مقابلہ کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، اور یہ محفوظ نہیں ہے ۔ صحیح وہ روایت ہے جسے شعبہ وغیرہ نے «عن منصور عن ربعي بن حراش عن زيد بن ظبيان عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، ابوبکر بن عیاش بہت غلطیاں کرتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2567
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (1921 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2609) //
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 9199) (ضعیف) (سند میں ابوبکر بن عیاش سے بہت غلطیاں ہو جایا کرتی تھیں، یہاں انہوں نے ابو ذر رضی الله عنہ کی روایت کو ابن مسعود ‘‘ رضی الله عنہ کی روایت بنا ڈالی ہے، جیسا کہ مؤلف نے صراحت کی ہے)»
حدیث نمبر: 2568
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، قَال : سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ ، فَأَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ : فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَقَامَ أَحَدُهُمْ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ ، وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ : الشَّيْخُ الزَّانِي ، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ ، وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے ، اور تین قسم کے لوگوں سے نفرت ، جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے وہ یہ ہیں : ایک وہ آدمی جو کسی قوم کے پاس جائے اور ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگے وہ اپنے اور اس قوم کے درمیان پائے جانے والے کسی رشتے کا واسطہ دے کر نہ مانگے اور وہ لوگ اسے کچھ نہ دیں ، پھر ان میں سے ایک آدمی پیچھے پھرے اور اسے چپکے سے لا کر کچھ دے ، اس کے عطیہ کو اللہ تعالیٰ اور جس کو دیا ہے اس کے سوا کوئی نہ جانے ۔ دوسرے وہ لوگ جو رات کو چلیں یہاں تک کہ جب ان کو نیند ان چیزوں سے پیاری ہو جائے جو نیند کے برابر ہیں تو سواری سے اتریں اور سر رکھ کر سو جائیں اور ان میں کا ایک آدمی کھڑا ہو کر میری خوشامد کرنے اور میری آیتوں کی تلاوت کرنے لگے ، تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور دشمن سے مقابلہ ہو تو اس کے ساتھی ہار جائیں پھر بھی وہ سینہ سپر ہو کر آگے بڑھے یہاں تک کہ مارا جائے یا فتح حاصل ہو جائے ۔ جن تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے وہ یہ ہیں : وہ بوڑھا جو زنا کار ہو ، وہ فقیر جو تکبر کرنے والا ہو اور مالدار جو دوسروں پر ظلم ڈھائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2568
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (1922) // ضعيف الجامع الصغير (2610) //
تخریج حدیث «سنن النسائی/قیام اللیل 7 (1616) ، والزکاة 75 (2571) ( تحفة الأشراف : 1913) ، و مسند احمد (5/153) (سند میں ’’ زید بن ظبیان ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
حدیث نمبر: 2568M
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ , وَهَكَذَا رَوَى شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَ هَذَا ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابوذر رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث صحیح ہے ،
۲- اسی طرح شیبان نے منصور کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، یہ ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2568M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (1922) // ضعيف الجامع الصغير (2610) //
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (ضعیف)»