کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: حورعین کے ترانہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَمُجْتَمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتٍ لَمْ يَسْمَعِ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا " , قَالَ : يَقُلْنَ : نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ ، وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ ، وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ ، طُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ " , وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثِ عَلِيٍّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں حورعین کے لیے ایک محفل ہو گی اس میں وہ اپنا نغمہ ایسا بلند کرے گا کہ مخلوق نے کبھی اس جیسی آواز نہیں سنی ہو گی “ ، آپ نے فرمایا : ” وہ کہیں گی : ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی فنا نہیں ہوں گی ، ہم ناز و نعمت والی ہیں کبھی محتاج نہیں ہوں گی ، ہم خوش رہنے والی ہیں کبھی ناراض نہیں ہوں گی ، اس کے لیے خوشخبری اور مبارک ہو اس کے لیے جو ہمارے لیے ہے اور ہم اس کے لیے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ ، ابو سعید خدری اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2564
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (1982) // ضعيف الجامع الصغير (1898) // , شیخ زبیر علی زئی: (2564) إسناده ضعيف / تقدم: 2550
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10298) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن اسحاق بن الحارث واسطی ضعیف راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ سورة الروم آية 15 ، قَالَ السَّمَّاعُ : وَمَعْنَى السَّمَّاعِ : مثل ما ورد في الحديث " أَنَّ الْحُورَ الْعِينَ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتِهِنَّ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ یحییٰ بن ابی کثیر آیت کریمہ : «فهم في روضة يحبرون» ” وہ جنت میں خوش کر دیئے جائیں گے “ کے بارے میں کہتے ہیں : اس سے مراد سماع ہے اور سماع کا مفہوم وہی ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ حورعین اپنے نغمے کی آواز بلند کریں گی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2565
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : لم یذکرہ المزي) (صحیح)»