کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: ادنیٰ درجہ کے جنتی کے اعزاز و اکرام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2562
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ ، وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً ، وَتُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ وَيَاقُوتٍ كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کم درجے کا جتنی وہ ہے جس کے لیے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی ۔ اس کے لیے موتی ، زمرد اور یاقوت کا خیمہ نصب کیا جائے گا جو مقام جابیہ سے صنعاء ( یمن ) تک کے برابر ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2562
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5648) // ضعيف الجامع الصغير (266) //
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 45059) (ضعیف) (سند میں دراج ابو السمح اور رشدین ضعیف راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 2562M
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ يُرَدُّونَ أَبْنَاءَ ثَلَاثِينَ فِي الْجَنَّةِ ، لَا يَزِيدُونَ عَلَيْهَا أَبَدًا ، وَكَذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ اسی سند سے روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو جنتی بھی مرے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا وہ جنت میں تیس برس کا ہو گا ، اس سے زیادہ اس کی عمر ہرگز نہیں ہو گی ، اور اسی طرح جہنمی بھی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2562M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5648) // ضعيف الجامع الصغير (266) //
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
حدیث نمبر: 2562M
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ , وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ عَلَيْهِمُ التِّيجَانَ إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بنِ سَعدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ اسی سند سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنتیوں کے اوپر تاج ہوں گے ، جس کا کم تر موتی بھی پورب پچھم کو روشن کر دے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2562M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5648) // ضعيف الجامع الصغير (266) //
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
حدیث نمبر: 2563
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي ", قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : فِي الْجَنَّةِ جِمَاعٌ وَلَا يَكُونُ وَلَدٌ ، هَكَذَا رُوِيَ عَنْ طَاوُسٍ , وَمُجَاهِدٍ , وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ : قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي وَلَكِنْ لَا يَشْتَهِي " , قَالَ مُحَمَّدٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا يَكُونُ لَهُمْ فِيهَا وَلَدٌ " , وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ اسْمُهُ : بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ : بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ أَيْضًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مومن جنت میں لڑکے کی خواہش کرے گا تو حمل ٹھہرنا ، ولادت ہونا اور اس کی عمر بڑھنا یہ سب کچھ اس کی خواہش کے مطابق ایک ساعت میں ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض لوگ کہتے ہیں : جنت میں جماع تو ہو گا مگر بچہ نہیں پیدا ہو گا ۔ طاؤس ، مجاہد اور ابراہیم نخعی سے اسی طرح مروی ہے ،
۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں : جب جنت میں مومن بچے کی خواہش کرے گا تو یہ ایک ساعت میں ہو جائے گا ، جیسے ہی وہ خواہش کرے گا لیکن وہ ایسی خواہش نہیں کرے گا ،
۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابورزین عقیلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنتی کے لیے جنت میں کوئی بچہ نہیں ہو گا ،
۵- ابوصدیق ناجی کا نام بکر بن عمرو ہے ، انہیں بکر بن قیس بھی کہا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2563
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ظلال الجنة (528)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 39 (4338) ( تحفة الأشراف : 3977) (صحیح)»