کتب حدیث ›
سنن ترمذي › ابواب
› باب: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 2559
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، وَثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی ہے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی ہے “ جیسے ایک مثال: سخت سردیوں میں نماز فجر وہ بھی جماعت سے کتنی تکلیف دہ ہے، مگر جنت ایسے ہی لوگوں کو ملے گی، اور آنکھ یا شرمگاہ سے حرام لذت کوشی میں کتنی لذت ہے، مگر اس عمل پر اگر توبہ نہ ہو تو جہنم ہے۔
حدیث نمبر: 2560
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَقَالَ : انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، قَالَ : فَجَاءَهَا وَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهِ قَالَ : فَوَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا ، فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ : وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خِفْتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ ، قَالَ : اذْهَبْ إِلَى النَّارِ ، فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلَهَا ، فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَقَالَ : وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو پیدا کر چکا تو جبرائیل کو جنت کی طرف بھیجا اور کہا : جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے جو کچھ ہم نے تیار کر رکھا ہے ، اسے جا کر دیکھو “ ، آپ نے فرمایا : ” وہ آئے اور جنت کو اور جنتیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو تیار کر رکھا ہے اسے دیکھا : “ آپ نے فرمایا : ” پھر اللہ کے پاس واپس گئے اور عرض کیا : تیری عزت کی قسم ! جو بھی اس کے بارے میں سن لے اس میں ضرور داخل ہو گا ، پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھیر دی گئی ، اور اللہ نے کہا : اس کی طرف دوبارہ جاؤ اور اس میں جنتیوں کے لیے ہم نے جو تیار کیا ہے اسے دیکھو “ ۔ آپ نے فرمایا : ” جبرائیل علیہ السلام جنت کی طرف دوبارہ گئے تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی تھی چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر آئے اور عرض کیا : مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہو گا ، اللہ نے کہا : جہنم کی طرف جاؤ اور جہنم کو اور جو کچھ جہنمیوں کے لیے میں نے تیار کیا ہے اسے جا کر دیکھو ، ( انہوں نے دیکھا کہ ) اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھ رہا ہے ، وہ اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا : تیری عزت کی قسم ! اس کے بارے میں جو بھی سن لے اس میں داخل نہیں ہو گا ۔ پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ شہوات سے گھیر دی گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے کہا : اس کی طرف دوبارہ جاؤ ، وہ اس کی طرف دوبارہ گئے اور ( واپس آ کر ) عرض کیا : تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی نجات نہیں پائے گا بلکہ اس میں داخل ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔