حدیث نمبر: 2553
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، قَال : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ ، وَأَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غَدْوَةً وَعَشِيَّةً ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ { 22 } إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ { 23 } سورة القيامة آية 22-23 " قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعٌ ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ , وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ثُوَيْرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے کم تر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو اپنے باغات ، بیویوں ، نعمتوں ، خادموں اور تختوں کی طرف دیکھے گا جو ایک ہزار سال کی مسافت پر مشتمل ہوں گے ، اور اللہ کے پاس سب سے مکرم وہ ہو گا جو اللہ کے چہرے کی طرف صبح و شام دیکھے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے ، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے “ ( القیامۃ : ۲۲ ، ۲۳ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث کئی سندوں سے اسرائیل کے واسطہ سے جسے وہ ثویر سے ، اور ثویر ابن عمر سے روایت کرتے ہیں مرفوعاً آئی ہے ۔ جب کہ اسے عبدالملک بن جبر نے ثویر کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفاً روایت کیا ہے ، اور عبیداللہ بن اشجعی نے سفیان سے ، سفیان نے ثویر سے ، ثویر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر سے ان کے اپنے قول کی حیثیت سے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث کئی سندوں سے اسرائیل کے واسطہ سے جسے وہ ثویر سے ، اور ثویر ابن عمر سے روایت کرتے ہیں مرفوعاً آئی ہے ۔ جب کہ اسے عبدالملک بن جبر نے ثویر کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفاً روایت کیا ہے ، اور عبیداللہ بن اشجعی نے سفیان سے ، سفیان نے ثویر سے ، ثویر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر سے ان کے اپنے قول کی حیثیت سے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2553M
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے عبداللہ بن عمر سے` اسی جیسی حدیث مروی ہے ، مگر اسے ( راوی نے ) مرفوع نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 2554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ نُوحٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُضَامُونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَتُضَامُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَهَكَذَا رَوَى يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدِيثُ ابْنِ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ ، وَحَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ ، وَهَكَذَا رَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ مِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں مزاحمت اور دھکم پیل کرتے ہو ؟ کیا تم سورج کو دیکھنے میں مزاحمت اور دھکم پیل کرتے ہو ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح چودہویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو ، اس کو دیکھنے میں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں کرو گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- یحییٰ بن عیسیٰ رملی اور کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، عبداللہ بن ادریس نے اسے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ،
۳- ابن ادریس کی حدیث جو اعمش کے واسطہ سے مروی ہے غیر محفوظ ہے ، اور ابوصالح کی حدیث جو ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے ،
۴- سہیل بن ابی صالح نے اسے اسی طرح اپنے والد سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ یہ حدیث ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سند سے اسی کے مثل مروی ہے ، اور وہ صحیح حدیث ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- یحییٰ بن عیسیٰ رملی اور کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، عبداللہ بن ادریس نے اسے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ،
۳- ابن ادریس کی حدیث جو اعمش کے واسطہ سے مروی ہے غیر محفوظ ہے ، اور ابوصالح کی حدیث جو ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے ،
۴- سہیل بن ابی صالح نے اسے اسی طرح اپنے والد سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ یہ حدیث ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سند سے اسی کے مثل مروی ہے ، اور وہ صحیح حدیث ہے ۔