حدیث نمبر: 2470
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَقِيَ مِنْهَا ؟ " قَالَتْ : مَا بَقِيَ مِنْهَا إِلَّا كَتِفُهَا ، قَالَ : " بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو مَيْسَرَةَ هُوَ الْهَمْدَانِيُّ اسْمُهُ : عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` صحابہ نے ایک بکری ذبح کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ” اس میں سے کچھ باقی ہے ؟ “ عائشہ رضی الله عنہا نے کہا : دستی کے سوا اور کچھ نہیں باقی ہے ، آپ نے فرمایا : ” دستی کے سوا سب کچھ باقی ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ ذبح کی گئی بکری کا جتنا حصہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہی صدقہ کیا ہوا مال درحقیقت باقی ہے، رہا وہ حصہ جو تمہارے پاس ہے وہ باقی نہیں ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ رب العالمین کے اس فرمان کی طرف ہے، «ماعندكم ينفد وما عند الله باق» ” جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے، اور رب العالمین کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی رہنے والا ہے “۔