کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2468
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : كَانَ لَنَا قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ عَلَى بَابِي ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " انْزَعِيهِ فَإِنَّهُ يُذَكِّرُنِي الدُّنْيَا " ، قَالَتْ : وَكَانَ لَنَا سَمَلُ قَطِيفَةٍ تَقُولُ عَلَمُهَا مِنْ حَرِيرٍ كُنَّا نَلْبَسُهَا , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ہمارے پاس ایک باریک پردہ تھا جس پر تصویریں بنی تھیں ، پردہ میرے دروازے پر لٹک رہا تھا ، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا : ” اس کو یہاں سے دور کر دو اس لیے کہ یہ مجھے دینا کی یاد دلاتا ہے “ ، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : ہمارے پاس ایک روئیں دار پرانی چادر تھی جس پر ریشم کے نشانات بنے ہوئے تھے اور اسے ہم اوڑھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2468
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح غاية المرام (136)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/اللباس 26 (2107/88) ، سنن النسائی/الزینة 111 (5355) ، انظر أیضا: صحیح البخاری/المظالم 32 (2479) ، واللباس 91 (5954) ، والأدب 75 (6109) ، وسنن النسائی/القبلة 12 (762) ( تحفة الأشراف : 16101) ، و مسند احمد (6/49، 241) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2469
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَتْ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَضْطَجِعُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چمڑے کا ایک تکیہ ( بستر ) تھا جس پر آپ آرام فرماتے تھے اس میں کھجور کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ اس ذات گرامی کی سادہ زندگی کا حال تھا جو سید المرسلین تھے، آج کی پرتکلف زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سادہ زندگی سے کس قدر مختلف ہے، کاش ہم مسلمان آپ کی اس سادگی کو اپنے لیے نمونہ بنائیں، اور اسے اختیار کریں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2469
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر الشمائل (282)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/اللباس 6 (2082) ( تحفة الأشراف : 17064) (صحیح)»