کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: دین سے دوری کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2447
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : أَيْنَ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي صَلَاتِكُمْ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں وہ چیزیں نہیں دیکھتا جن پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عمل کرتے تھے ، راوی حدیث ابوعمران جونی نے کہا : کیا آپ نماز نہیں دیکھتے ؟ انس رضی الله عنہ نے کہا : کیا تم لوگوں نے نماز میں وہ سب نہیں کیا جو تم جانتے ہو ؟ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث ابوعمران جونی کی روایت سے غریب حسن ہے ،
۲- یہ حدیث انس کے واسطے سے اس کے علاوہ اور کئی سندوں سے مروی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی نماز کی پابندی اور اس کے اوقات میں اسے ادا کرنا اس سلسلہ میں تم لوگوں نے سستی اور کاہلی نہیں برتی؟۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المواقیت 7 (529، 530) ( تحفة الأشراف : 1074) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْخَثْعَمِيُّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ الْخَثْعَمِيَّةِ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَخَيَّلَ ، وَاخْتَالَ وَنَسِيَ الْكَبِيرَ الْمُتَعَالِ ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ وَاعْتَدَى وَنَسِيَ الْجَبَّارَ الْأَعْلَى ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ سَهَا وَلَهَا وَنَسِيَ الْمَقَابِرَ وَالْبِلَى ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ عَتَا وَطَغَى وَنَسِيَ الْمُبْتَدَا وَالْمُنْتَهَى ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدُّنْيَا بِالدِّينِ ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدِّينَ بِالشُّبُهَاتِ ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ طَمَعٌ يَقُودُهُ ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ هَوًى يُضِلُّهُ ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ رَغَبٌ يُذِلُّهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” برا ہے وہ بندہ جو تکبر کرے اور اترائے اور اللہ بزرگ و برتر کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو مظلوموں پر قہر ڈھائے اور ظلم و زیادتی کرے اور اللہ جبار برتر کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو لہو و لعب میں مشغول ہو اور قبروں اور ہڈیوں کے سڑ گل جانے کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو حد سے آگے بڑھ جائے اور سرکشی کا راستہ اپنائے اور اپنی پیدائش اور موت کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا کو طلب کرے ، اور برا ہے وہ بندہ جو اپنے دین کو شبہات سے ملائے ، اور برا ہے وہ بندہ جسے لالچ اپنی طرف کھینچ لے ، اور برا ہے وہ بندہ جسے اس کا ہوائے نفسانی گمراہ کر دے اور برا ہے وہ بندہ جسے حرص ذلیل و رسوا کر دے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2448
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5115 / التحقيق الثاني) ، الضعيفة (2026) ، الظلال (9 و 10) // ضعيف الجامع الصغير (2350) // , شیخ زبیر علی زئی: (2448) إسناده ضعيف, زيد الخثعمي: مجهول وتلميذه هاشم بن سعيد : ضعيف (تق: 2147 ،7254)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15755) (ضعیف) (سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)»