کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: صرف موحد ہی شفاعت نبوی کا مستحق ہو گا۔
حدیث نمبر: 2441
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ ، وَهِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " , وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ رَجُلٍ آخَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف بن مالک اشجعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا ( جبرائیل علیہ السلام ) میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا یہ کہ مجھے شفاعت کا حق حاصل ہو ، چنانچہ میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جس کا خاتمہ شرک کی حالت پر نہیں ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث ابوملیح نے ایک اور صحابی سے روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ( لیکن ) اس میں عوف بن مالک کا ذکر نہیں کیا ، اس حدیث میں ایک طویل قصہ مذکور ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4317)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10920) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2441M
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أبو عوانة، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عوف بن مالک رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ( اسی میں قصہ ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2441M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4317)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10920) (صحیح)»