کتب حدیث ›
سنن ترمذي › ابواب
› باب: ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2437
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا ، نہ ان کا حساب ہو گا اور نہ ان پر کوئی عذاب ، ( پھر ) ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے ، اور ان کے سوا میرے رب کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 2438
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَهْطٍ بِإِيلِيَاءَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , سِوَاكَ ؟ قَالَ : " سِوَايَ " ، فَلَمَّا قَامَ , قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا ابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، أَبِي الْجَذْعَاءِ ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ الْوَاحِدُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ` میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا ، ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے “ ، کسی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، میرے علاوہ ہو گا “ ، پھر جب وہ ( راوی حدیث ) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ کا نام عبداللہ ہے ، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ کا نام عبداللہ ہے ، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے ۔
حدیث نمبر: 2439
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ جِسْرٍ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَشْفَعُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمِثْلِ رَبِيعَةَ , وَمُضَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عثمان بن عفان رضی الله عنہ قیامت کے دن قبیلہ ربیعہ اور مضر کے برابر ، لوگوں کے لیے شفاعت کریں گے “ ۔
حدیث نمبر: 2440
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْعَصْبَةِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلرَّجُلِ ، حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کا کوئی شخص کئی جماعت کے لیے شفاعت کرے گا ، کوئی ایک قبیلہ کے لیے شفاعت کرے گا ، کوئی ایک گروہ کے لیے شفاعت کرے گا ، اور کوئی ایک آدمی کے لیے شفاعت کرے گا ، یہاں تک کہ سب جنت میں داخل ہوں جائیں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔