کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: امت محمدیہ کے اہل کبائر کی شفاعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2435
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وفي الباب عن جَابِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی میری امت کے جو اہل کبائر ہوں گے اور جو اپنے گناہوں کی سزا جہنم میں بھگت رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی بخشش کے لیے میری مخصوص شفاعت ہو گی، باقی رفع درجات کے لیے انبیاء، اولیاء، اور دیگر متقی و پرہیزگار لوگوں کی شفاعت بھی ہو گی جو سنی جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (5599) ، الظلال (831 - 832) ، الروض النضير (65)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 481) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2436
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ : فَقَالَ لِي جَابِرٌ : يَا مُحَمَّدُ مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ الْكَبَائِرِ فَمَا لَهُ وَلِلشَّفَاعَةِ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی “ ۔ محمد بن علی الباقر کہتے ہیں : مجھ سے جابر رضی الله عنہ نے کہا : محمد ! جو اہل کبائر میں سے نہ ہوں گے انہیں شفاعت سے کیا تعلق ؟
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث جعفر الصادق بن محمد الباقر کی روایت سے حسن غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2436
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: (2436) إسناده ضعيف, محمد بن ثابت البناني: ضعيف (تق: 5767) والحديث السابق (الأصل : 2435) يغني عنه
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 37 (4310) ( تحفة الأشراف : 2608) ، و مسند احمد (3/213) (صحیح)»