حدیث نمبر: 2432
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شِعَارُ الْمُؤْمِنِ عَلَى الصِّرَاطِ رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پل صراط پر مومن کا شعار یہ ہو گا : «رب سلم سلم» میرے رب ! مجھے سلامت رکھ ، مجھے سلامت رکھ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ کی روایت سے غریب ہے ، اسے ہم صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق ( واسطی ہی ) کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ کی روایت سے غریب ہے ، اسے ہم صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق ( واسطی ہی ) کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
حدیث نمبر: 2433
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ , فَقَالَ : " أَنَا فَاعِلٌ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ ، قَالَ : " اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ ؟ قَالَ : " فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ " ، قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ ؟ قَالَ : " فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں ، آپ نے فرمایا : ” ضرور کروں گا “ ۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کو کہاں تلاش کروں گا ؟ آپ نے فرمایا : ” سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈنا “ ، میں نے عرض کیا : اگر پل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہو سکے ، تو فرمایا : ” تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈنا “ ، میں نے کہا : اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہو سکے تو ؟ فرمایا : ” اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈنا ، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔