کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: قیامت کے دن پیشی اور حساب سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 2426
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ { 7 } فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا { 8 } سورة الانشقاق آية 7-8 قَالَ : " ذَلِكَ الْعَرْضُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ ، وَرَوَاهُ أَيُّوبُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس سے حساب و کتاب میں سختی سے پوچھ تاچھ ہو گئی وہ ہلاک ہو جائے گا ۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه فسوف يحاسب حسابا يسيرا» : ” جس شخص کو نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا “ ( الانشقاق : ۷ ) ۔ آپ نے فرمایا : ” اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث صحیح حسن ہے ،
۲- ایوب نے بھی ابن ابی ملیکہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ظلال الجنة (885)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العلم 36 (103) ، وتفسیر سورة الانشقاق (4939) ، والرقاق 49 (6536) ، صحیح مسلم/الجنة 18 (2876) ، ویأتي عند المؤلف في تفسیر الانشقاق (3337) ( تحفة الأشراف : 16254) ، و مسند احمد (6/48) (صحیح)»