حدیث نمبر: 2406
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا النَّجَاةُ ؟ قَالَ : " أَمْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! نجات کی کیا صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اپنی زبان کو قابو میں رکھو ، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں زبان کی حفاظت کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے، کیونکہ اسے کنٹرول میں نہ رکھنے کی صورت میں اس سے بکثرت گناہ صادر ہوتے ہیں، اس لیے لایعنی اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرنا چاہیئے اور کوشش یہ ہو کہ ہمیشہ زبان سے خیر ہی نکلے، ایسے لوگوں اور مجالس سے دور رہنا چاہیئے جن سے شر کا خطرہ ہو، بحیثیت انسان غلطیاں ضرور ہوں گی ان کی تلافی کے لیے رب العالمین کے سامنے عاجزی کا اظہار کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔
حدیث نمبر: 2407
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَفَعَهُ , قَالَ : " إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ , فَإِنَّ الْأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ ، فَتَقُولُ : اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّمَا نَحْنُ بِكَ فَإِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انسان جب صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں : تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر اس لیے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں زبان کو سارے اعضاء کے سدھار کا مرکز بتایا گیا ہے، حالانکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کا مرکز دل ہے، توفیق کی صورت یہ ہے کہ زبان کو جسم کے ترجمان کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے مجازا اسے سارے اعضاء کا مرکز کہا گیا، ورنہ مرکز دل ہے نہ کہ زبان۔
حدیث نمبر: 2407M
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ , وَلَمْ يَرْفَعُوهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` ابو سعید خدری سے موقوفا اسی جیسی حدیث مروی ہے اور یہ روایت محمد بن موسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس حدیث کو ہم صرف حماد بن زید کی روایت سے جانتے ہیں اس حدیث کو حماد بن زید سے کئی راویوں نے روایت کیا ہے ، لیکن یہ ساری روایتیں غیر مرفوع ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس حدیث کو ہم صرف حماد بن زید کی روایت سے جانتے ہیں اس حدیث کو حماد بن زید سے کئی راویوں نے روایت کیا ہے ، لیکن یہ ساری روایتیں غیر مرفوع ہیں ۔
حدیث نمبر: 2407M
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : أَحْسِبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، مگر صالح بن عبداللہ نے شک کے ساتھ روایت کی ہے کہ شاید ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے ، پھر اسی طرح سے پوری حدیث بیان کی ۔
حدیث نمبر: 2408
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، أَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ " , وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ سَهْلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث سہل بن سعد کی روایت سے حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث سہل بن سعد کی روایت سے حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: چونکہ زبان اور شرمگاہ گناہوں کے صدور کا اصل مرکز ہیں، اسی لیے ان کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے، اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی حفاظت کی ضمانت دینے والوں کے لیے جنت کی ضمانت دی ہے۔
حدیث نمبر: 2409
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَشَرَّ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : أَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ اسْمُهُ : سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ وَهُوَ كُوفِيٌّ ، وَأَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ هُوَ أَبُو حَازِمٍ الزَّاهِدُ مَدَنِيٌّ وَاسْمُهُ : سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے اللہ نے اس کی ٹانگوں اور ڈاڑھوں کے درمیان کی چیز کے شر و فساد سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمان ہے ، یہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور کوفی ہیں اور سہل بن سعد سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمہ بن دینار ہے جو زاہد مدنی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمان ہے ، یہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور کوفی ہیں اور سہل بن سعد سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمہ بن دینار ہے جو زاہد مدنی ہیں ۔
حدیث نمبر: 2410
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ ، قَالَ : " قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھ سے ایسی بات بیان فرمائیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں ، آپ نے فرمایا : ” کہو : میرا رب ( معبود حقیقی ) اللہ ہے پھر اسی عہد پر قائم رہو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو مجھ سے کس چیز کا زیادہ خوف ہے ؟ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا : ” اسی کا زیادہ خوف ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث سفیان بن عبداللہ ثقفی سے کئی سندوں سے مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث سفیان بن عبداللہ ثقفی سے کئی سندوں سے مروی ہے ۔