کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مصیبت میں صبر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2396
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلد سزا دے دیتا ہے ۱؎ ، اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر ( برائی ) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتا ہے ۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دیتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2396
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث: " إذا أراد الله ... ") حسن صحيح، (حديث: " إن عظم الجزاء.. ") حسن (حديث: " إذا أراد الله.. ") ، الصحيحة (1220) ، المشكاة (1565) ، (حديث: " إن عظم الجزاء ... ") ، ابن ماجة (4031) , شیخ زبیر علی زئی: (2396) إسناده ضعيف / جه 4031, سعد بن سنان صدوق لكن رواية يزيد بن أبى حبيب عنه منكرة (انظر كتاب الضعفاء للعقيلي 119/2، رواه عن الامام أحمد و سنده قوي) وللحديث شواهد ضعيفة عندالحاكم (349/1 ،376/4 ،377)وغيره
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 849) (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 2396M
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا ، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بڑا ثواب بڑی بلا ( آزمائش ) کے ساتھ ہے ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے پس جو اللہ کی تقدیر پر راضی ہو اس کے لیے اللہ کی رضا ہے اور جو اللہ کی تقدیر سے ناراض ہو تو اللہ بھی اس سے ناراض ہو جاتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ تعالیٰ اسے مشکلات سے دو چار کرتا ہے، اور مختلف قسم کی آزمائشوں میں ڈال کر اس کا امتحان لیتا ہے، گویا دنیا کی آزمائشیں مومن کے لیے نعمت ہیں، یہ گناہوں کی بخشش اور ثواب میں اضافہ کا باعث ہیں، شرف و فضیلت کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ بندہ ہر آزمائش و تکلیف میں صبر و رضا کا پیکر ہو۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2396M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث: " إذا أراد الله ... ") حسن صحيح، (حديث: " إن عظم الجزاء.. ") حسن (حديث: " إذا أراد الله.. ") ، الصحيحة (1220) ، المشكاة (1565) ، (حديث: " إن عظم الجزاء ... ") ، ابن ماجة (4031)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 2397
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا رَأَيْتُ الْوَجَعَ عَلَى أَحَدٍ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درد سے زیادہ درد کسی شخص کا نہیں دیکھا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے اس تکلیف کی طرف اشارہ ہے جس سے مرض الموت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو چار ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2397
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1622)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المرضی 3 (5646) ( تحفة الأشراف : 16155) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2398
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً ؟ قَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ ، فَالْأَمْثَلُ ، فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأُخْتِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً ؟ قَالَ : الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” انبیاء و رسل پر ، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں ، پھر جو ان کے بعد ہیں ، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے ، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کے دین کے مطابق مصیبت بھی ہوتی ہے ، پھر مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے ، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس باب میں ابوہریرہ اور حذیفہ بن یمان کی بہن فاطمہ رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مصیبتیں کس پر زیادہ آتی ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انبیاء و رسل پر پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں پھر جو ان کے بعد میں ہوں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ جو بندہ اپنے ایمان میں جس قدر مضبوط ہو گا اسی قدر اس کی ابتلاء و آزمائش بھی ہو گی، لیکن اس ابتلاء و آزمائش میں اس کے لیے ایک بھلائی کا بھی پہلو ہے کہ اس سے اس کے گناہ معاف ہوتے رہیں گے، اور بندہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2398
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، ابن ماجة (4023)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الفتن 23 (4023) ( تحفة الأشراف : 3934) ، وسنن الدارمی/الرقاق 67 (2825) ، و مسند احمد (1/172، 174، 180، 185) (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 2399
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن مرد اور مومن عورت کی جان ، اولاد ، اور مال میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ مرنے کے بعد اللہ سے ملاقات کرتے ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہوتا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مومن ہمیشہ آزمائش سے دو چار رہے گا، لیکن یہ آزمائشیں اس کے لیے اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی رہیں گی، بشرطیکہ وہ صبر کا دامن پکڑے رہے اور ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2399
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، الصحيحة (2280)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15114) (حسن صحیح)»