کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: اللہ کی خاطر محبت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2390
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ " , وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثُوَبَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میری عظمت و بزرگی کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے قیامت کے دن نور ( روشنی ) کے ایسے منبر ہوں گے جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابو الدرداء ، ابن مسعود ، عبادہ بن صامت ، ابوہریرہ اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی عظمت و بزرگی کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کا مقام و مرتبہ اس قدر اونچا ہو گا کہ انبیاء و شہداء باوجود یہ کہ سب سے اونچے مراتب پر فائز ہوں گے اگر دوسروں کے حال پر قیامت کے دن رشک کرتے تو ایسے لوگوں کے مراتب پر ضرور رشک کرتے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2390
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (5011 / التحقيق الثانى) ، التعليق الرغيب (4 / 47)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11325) ، وانظر: مسند احمد (5/229، 239) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2391
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ، إِمَامٌ عَادِلٌ ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ فَاجْتَمَعَا عَلَى ذَلِكَ وَتَفَرَّقَا ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ , فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهَكَذَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ مِثْلَ هَذَا وَشَكَّ فِيهِ ، وَقَالَ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، رَوَاهُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ ، يَقُولُ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ یا ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے ( عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا : ان میں سے ایک انصاف کرنے والا حکمراں ہے ، دوسرا وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ۱؎ ، تیسرا وہ شخص ہے جس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو ۲؎ چوتھا وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی ، اسی کے واسطے جمع ہوتے ہیں اور اسی کے واسطے الگ ہوتے ہیں ۳؎ ، پانچواں وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے اور عذاب الٰہی کے خوف میں آنسو بہائے ، چھٹا وہ آدمی جسے خوبصورت عورت گناہ کی دعوت دے ، لیکن وہ کہے کہ مجھے اللہ کا خوف ہے ، ساتواں وہ آدمی جس نے کوئی صدقہ کیا تو اسے چھپایا یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی نہ پتہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث امام مالک بن انس سے اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی اسی کے مثل مروی ہے ، ان میں بھی راوی نے شک کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے «عن أبي هريرة أو عن أبي سعيد» اور عبیداللہ بن عمر عمری نے اس حدیث کو خبیب بن عبدالرحمٰن سے بغیر شک کے روایت کیا ہے ، اس میں انہوں نے صرف «عن أبي هريرة» کہا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی بچپن سے ہی اس کی تربیت اسلامی خطوط پر ہوئی اور جوانی کی آنکھیں کھولتے ہی وہ اللہ کی عبادت کو سمجھتا تھا اور پھر وہ اس پر کاربند رہا۔
۲؎: یعنی وہ اس انتظار میں رہے کہ کب اذان ہو اور وہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں جائے۔
۳؎: یعنی ان کے اکٹھا ہونے اور جدا ہونے کی بنیاد دین ہے، گویا دین کی پابندی انہیں ایک دوسرے سے وابستہ رکھتی ہے اور دین سے انحراف انہیں باہم جدا کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2391
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (887)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأذان 36 (660) ، والزکاة 16 (1423) ، والرقاق 24 (6479) ، والحدود 19 (6806) ، صحیح مسلم/الزکاة 30 (1031) ، سنن النسائی/القضاة 2 (5382) ( تحفة الأشراف : 12264، و 3996) ، وط/الشعر 5 (14) ، و مسند احمد (2/439) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2391M
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي خُبَيْبٌ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ بِمَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا بِالْمَسَاجِدِ ، وَقَالَ : ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسی جیسی حدیث مروی ہے ، اس میں انہوں نے «مُعَلَّقًا بِالْمَسْجِدِ» کی بجائے «مُعَلَّقًا بِالْمَسَاجِدِ» اور «ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ» کی بجائے «ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ» کہا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2391M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (887)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»