مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: انجام کار آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہو گا۔
حدیث نمبر: 2385
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلَاةٍ ، وَلَا صَوْمٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " , فَمَا رَأَيْتُ فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَهُمْ بِهَذَا , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے ، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ “ اس آدمی نے کہا : میں موجود ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” قیامت کے لیے تم نے کیا تیاری کر رکھی ہے “ ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کوئی زیادہ صوم و صلاۃ اکٹھا نہیں کی ہے ( یعنی نوافل وغیرہ ) مگر یہ بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہے ، اور تم بھی اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو “ ۔ انس کا بیان ہے کہ اسلام لانے کے بعد میں نے مسلمانوں کو اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا آپ کے اس قول سے وہ سب خوش نظر آ رہے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الروض النضير (104)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 6 (3688) ، والأدب 95 (6167) ، و 96 (6171) ، والأحکام 10 (7153) ، صحیح مسلم/البر والصلة 50 (3639) ( تحفة الأشراف : 585) ، و مسند احمد (3/104، 110، 159، 165، 167، 168، 173، 178، 192، 198، 200) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2386
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَلَهُ مَا اكْتَسَبَ " , وفي الباب عن عَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَصَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي مُوسَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے وہی بدلہ ملے گا جو کچھ اس نے کمایا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن بصری کی روایت سے حسن غریب ہے ، اور حسن بصری نے انس بن مالک سے اور انس بن مالک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ،
۲- یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے ،
۳- اس باب میں علی ، عبداللہ بن مسعود ، صفوان بن عسال ، ابوہریرہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2386
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بلفظ: " أنت مع من احببت ولك ما احتسبت "، الصحيحة (3253) // ضعيف الجامع الصغير (5923) // , شیخ زبیر علی زئی: (2386) إسناده ضعيف (وحديث أبى داود (5125) يغني عنه), الحسن البصري عنعن (تقدم: 21) وحديث ”المرء مع من أحب“ صحيح متواتر دون الزيادة
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : 530) (صحیح) ( ’’ أنت مع من أحببت ولک ما اکتسبت ‘‘ کے سیاق سے صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 2387
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَهْوَرِيُّ الصَّوْتِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک دیہاتی جس کی آواز بہت بھاری تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے محمد ! ایک آدمی قوم سے محبت کرتا ہے البتہ وہ ان سے عمل میں پیچھے ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2387
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الروض النضير (360)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4952) (حسن)»
حدیث نمبر: 2387M
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَحْمُودٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` صفوان بن عسال رضی الله عنہ سے محمود بن غیلان کی حدیث جیسی حدیث مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2387M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الروض النضير (360)
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ (حسن)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔