کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: دل کی بے نیازی اور استغناء اصل دولت ہے
حدیث نمبر: 2373
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ قُرَيْشٍ الْيَامِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ : عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالداری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے ، بلکہ اصل مالداری نفس کی مالداری ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: انسان کے پاس جو کچھ ہے اسی پر صابر و قانع رہ کر دوسروں سے بے نیاز رہنا اور ان سے کچھ نہ طلب کرنا درحقیقت یہی نفس کی مالداری ہے، گویا بندہ اللہ کی تقسیم پر راضی رہے، دوسروں کے مال و دولت کو للچائی ہوئی نظر سے نہ دیکھے اور زیادتی کی حرص نہ رکھے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2373
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4137)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الرقاق 15 (6446) ، صحیح مسلم/الزکاة 40 (1051) ، سنن ابن ماجہ/الزہد 9 (4137) ( تحفة الأشراف : 12845) ، وحإ (2/243، 261، 315، 390، 438، 443، 539، 540) (صحیح)»