کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 2343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ هُوَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ابْنَ آدَمَ , إِنَّكَ إِنْ تَبْذُلِ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ ، وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ ، وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَشَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُكْنَى : أَبَا عَمَّارٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم ! اگر تو اپنی حاجت سے زائد مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہو گا ، اور اگر تو اسے روک رکھے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا ، اور بقدر کفاف خرچ کرنے میں تیری ملامت نہیں کی جائے گی اور صدقہ و خیرات دیتے وقت ان لوگوں سے شروع کر جن کی کفالت تیرے ذمہ ہے ، اور اوپر والا ( دینے والا ) ہاتھ نیچے والے ہاتھ ( مانگنے والے ) سے بہتر ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اس سے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضرورت و حاجت کا خیال رکھو اور ضرورت سے زائد مال حاجتمندوں اور مستحقین کے درمیان تقسیم کر دو کیونکہ جمع خوری کا نتیجہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ صحیح نہیں، جمع خوری سے معاشرے میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں، اور آخرت میں بخل کا جو انجام ہے وہ بالکل واضح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2343
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (3 / 318)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الزکاة 32 (1036) ( تحفة الأشراف : 4879) ، و مسند احمد (5/262) (صحیح)»