کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: لمبی عمر والا اچھے اعمال کے ساتھ سب سے اچھا آدمی ہے اور برے کام کے ساتھ سب سے برا​۔
حدیث نمبر: 2330
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ " قَالَ : فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو “ ، اس آدمی نے پھر پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بدتر شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ایک تاجر کی نگاہ میں راس المال اور سرمایہ کی جو حیثیت ہے وہی حیثیت اور مقام وقت کا ہے، تاجر اپنے سرمایہ کو ہمیشہ بڑھانے کا خواہشمند ہوتا ہے، اسی طرح لمبی مدت پانے والے کو چاہیئے کہ اس کے اوقات زیادہ سے زیادہ نیکی کے کاموں میں گزاریں، اگر اس نے اپنی زندگی کے اس سرمایہ کو اسی طرح باقی رکھا تو جس طرح سرمایہ بڑھانے کا خواہشمند تاجر اکثر نفع کماتا ہے، اسی طرح یہ بھی فائدہ ہی حاصل کرتا رہے گا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بما قبله (2329) , شیخ زبیر علی زئی: (2330) إسناده ضعيف, على بن زيد بن جدعان ضعيف (تقدم: 589) وللحديث السابق (الأصل : 2329) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11689) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر جیسے سابقہ حدیث سے یہ حدیث صحیح ہے)»