کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: آخرت کے مقابلے میں دنیا سمندر کے ایک قطرے کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 2323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَال : سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَاذَا يَرْجِعُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَوَالِدُ قَيْسٍ أَبُو حَازِمٍ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَوْفٍ ، وَهُوَ مِنَ الصَّحَابَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا کی مثال آخرت کے سامنے ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی سمندر کا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسماعیل بن ابی خالد کی کنیت ابوعبداللہ ہے ،
۳- قیس کے والد ابوحازم کا نام عبد بن عوف ہے اور یہ صحابی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں آخرت کی نعمتوں اور اس کی دائمی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی قدر و قیمت اور اس کی زندگی کا تناسب بیان کیا گیا ہے، یہ تناسب ایسے ہی ہے جیسے ایک قطرہ پانی اور سمندر کے پانی کے درمیان تناسب ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2323
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4108)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/صفة الجنة 14 (2858) ، سنن ابن ماجہ/الزہد 3 (4108) ( تحفة الأشراف : 11255) ، و مسند احمد (4/229، 230) (صحیح)»