کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: موت کی یاد۔
حدیث نمبر: 2307
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ " ، يَعْنِي الْمَوْتَ ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لذتوں کو توڑنے والی ( یعنی موت ) کو کثرت سے یاد کیا کرو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ،
۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: موت کی یاد اور اس کا تصور انسان کو دنیاوی مشاغل سے دور اور معصیت کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے، اس لیے بکثرت موت کو یاد کرنا چاہیئے اور اس کے پیش آنے والے معاملات سے غافل نہیں رہنا چاہیئے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2307
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، ابن ماجة (4258)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الجنائز 3 (1825) ، سنن ابن ماجہ/الزہد 31 (4258) ( تحفة الأشراف : 15080) ، و مسند احمد (2/293) (حسن صحیح)»