حدیث نمبر: 2278
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، قَال : سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ عُدُسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يَتَحَدَّثْ بِهَا ، فَإِذَا تَحَدَّثَ بِهَا سَقَطَتْ ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَلَا يُحَدِّثُ بِهَا إِلَّا لَبِيبًا أَوْ حَبِيبًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورزین عقیلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کا خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے ، پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۱؎ “ ، ابورزین کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا : ” خواب صرف اس سے بیان کرو جو عقلمند ہو یا جس سے تمہاری دوستی ہو “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس خواب کی تعبیر جب تک بیان نہیں کی جاتی یہ خواب معلق رہتا ہے، اس کے لیے ٹھہراؤ نہیں ہوتا، تعبیر آ جانے کے بعد ہی اسے قرار حاصل ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2279
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا ، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو رَزِينٍ الْعُقَيْلِيُّ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ ، وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، فَقَالَ : عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، وَقَالَ شُعْبَةُ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، وَهُشَيْمٌ : عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، وَهَذَا أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ابورزین عقیلی کا نام لقیط بن عامر ہے ،
۳- حماد بن سلمہ نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ” وكيع بن حدس “ کہا ہے جب کہ شعبہ ، ابو عوانہ اور ہشیم نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ” وكيع بن عدس “ کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ابورزین عقیلی کا نام لقیط بن عامر ہے ،
۳- حماد بن سلمہ نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ” وكيع بن حدس “ کہا ہے جب کہ شعبہ ، ابو عوانہ اور ہشیم نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ” وكيع بن عدس “ کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔