کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: اچھے اور برے کی پہچان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2263
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى أُنَاسٍ جُلُوسٍ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ ؟ " قَالَ : فَسَكَتُوا ، فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا ، قَالَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آ کر ٹھہرے اور فرمایا : ” کیا میں تمہارے اچھے لوگوں کو تمہارے برے لوگوں میں سے نہ بتا دوں ؟ “ لوگ خاموش رہے ، آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا ، ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول ! کیوں نہیں ؟ آپ ہمارے اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے بتا دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” تم میں بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون ( بےخوف ) رہا جائے اور تم میں سے برا وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون ( بےخوف ) نہ رہا جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2263
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (4993)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 14076) ، وانظر مسند احمد (2/368، 378) (صحیح)»