حدیث نمبر: 2242
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا ، فَلَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، وَمِحْجَنٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دجال مدینہ ( کے قریب ) آئے گا تو فرشتوں کو اس کی نگرانی کرتے ہوئے پائے گا ، اللہ نے چاہا تو اس میں دجال اور طاعون نہیں داخل ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ ، فاطمہ بنت قیس ، اسامہ بن زید ، سمرہ بن جندب اور محجن رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ ، فاطمہ بنت قیس ، اسامہ بن زید ، سمرہ بن جندب اور محجن رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 2243
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْكُفْرُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، وَالسَّكِينَةُ لِأَهْلِ الْغَنَمِ ، وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْخَيْلِ وَأَهْلِ الْوَبَرِ ، يَأْتِي الْمَسِيحُ إِذَا جَاءَ دُبُرَ أُحُدٍ صَرَفَتِ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ ، وَهُنَالِكَ يَهْلَكُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان یمن کی طرف سے نکلا ہے اور کفر مشرق ( پورب ) کی طرف سے ، سکون و اطمینان والی زندگی بکری والوں کی ہے ، اور فخر و ریاکاری فدادین یعنی گھوڑے اور اونٹ والوں میں ہے ، جب مسیح دجال احد کے پیچھے آئے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور شام ہی میں وہ ہلاک ہو جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔