حدیث نمبر: 2232
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال : سَمِعْتُ زَيْدًا الْعَمِّيَّ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ ، فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيَّ يَخْرُجُ يَعِيشُ خَمْسًا ، أَوْ سَبْعًا ، أَوْ تِسْعًا " ، زَيْدٌ الشَّاكُّ ، قَالَ : قُلْنَا : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : " سِنِينَ " ، قَالَ : " فَيَجِيءُ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَيَقُولُ : يَا مَهْدِيُّ ، أَعْطِنِي أَعْطِنِي ، قَالَ : فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، وَيُقَالُ : بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم اس بات سے ڈرے کہ ہمارے نبی کے بعد کچھ حادثات پیش آئیں ، لہٰذا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ” میری امت میں مہدی ہیں جو نکلیں گے اور پانچ ، سات یا نو تک زندہ رہیں گے ، ( اس گنتی میں زیدالعمی کی طرف سے شک ہوا ہے “ ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کیا : ان گنتیوں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : سال ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر ان کے پاس ایک آدمی آئے گا اور کہے گا : مہدی ! مجھے دیجئیے ، مجھے دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” وہ اس آدمی کے کپڑے میں ( دینار و درہم ) اتنا رکھ دیں گے کہ وہ اٹھا نہ سکے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے ۔