کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: خیر کے تین عہد اور زمانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2221
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ يَتَسَمَّنُونَ وَيُحِبُّونَ السِّمَنَ ، يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَلِيَّ بْنَ مُدْرِكٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں ، پھر ان کے بعد آنے والے ، پھر ان کے بعد آنے والے ، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے ، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
محمد بن فضیل نے یہ حدیث اسی طرح «عن الأعمش عن علي بن مدرك عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے ، کئی حفاظ نے اسے «عن الأعمش عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے ، اس میں علی بن مدرک کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: چونکہ یہ لوگ دین و ایمان کی فکر سے خالی ہوں گے، کسی کے سامنے جواب دہی کا کوئی خوف ان کے دلوں میں باقی نہیں رہے گا، اور عیش و آرام کی زندگی کی مستیاں لے رہے ہوں گے، اس لیے موٹاپا ان میں عام ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (1840)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الشھادات 9 (2651) ، و فضائل الصحابة 1 (3650) ، والرقاق 7 (6428) ، والأیمان 7 (6695) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 (2535) ، سنن ابی داود/ السنة 10 (4657) ، سنن النسائی/الأیمان والنذور 29 (2302) ( تحفة الأشراف : 10866) ، و مسند احمد (4/426، 427، 436، 440) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2221M
قَالَ : وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ يَسَافٍ، عَنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عمران بن حصین سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ میرے نزدیک محمد بن فضیل کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث کئی سندوں سے عمران بن حصین کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2221M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (1840)
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " ، قَالَ : وَلَا أَعْلَمُ ذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ، " ثُمَّ يَنْشَأُ أَقْوَامٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کے درمیان میں بھیجا گیا ہوں ، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد ہوں گے “ ، عمران بن حصین کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے تیسرے زمانہ کا ذکر کیا یا نہیں ، ” پھر اس کے بعدا یسے لوگ پیدا ہوں گے جن سے گواہی نہیں طلب کی جائے گی پھر بھی گواہی دیتے رہیں گے ، خیانت کریں گے امانت دار نہیں ہوں گے اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2222
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (1840)
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : 10824) (صحیح)»