کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: قتل و خوں ریزی اور اس وقت کی عبادت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2200
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے بعد ایسے دن آنے والے ہیں جس میں علم اٹھا لیا جائے گا ، اور ہرج زیادہ ہو جائے گا “ ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہرج کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” قتل و خوں ریزی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ ، خالد بن ولید اور معقل بن یسار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2200
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح صحيح الجامع (2233)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الفتن 5 (7062-7064) ، صحیح مسلم/العلم 5 (2672) ، سنن ابن ماجہ/الفتن 26 (4051) ( تحفة الأشراف : 9000) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2201
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، رَدَّهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، رَدَّهُ إِلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، رَدَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَالْهِجْرَةِ إِلَيَّ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُعَلَّى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قتل و خوں ریزی کے زمانہ میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے مانند ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف حماد بن زید کی روایت سے جانتے ہیں ، جسے وہ معلی سے روایت کرتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: قتل و خوں ریزی یعنی فتنہ کے زمانہ میں فتنہ سے دور رہ کر عبادت میں مشغول رہنا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے مثل ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2201
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3985)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الفتن 26 (2948) ، سنن ابن ماجہ/الفتن 14 (3985) ( تحفة الأشراف : 11476) ، و مسند احمد (5/25) (صحیح)»