کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: ترجیح دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2189
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسید بن حضیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک انصاری نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے فلاں کو عامل بنا دیا اور مجھے عامل نہیں بنایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے بعد ( غلط ) ترجیح دیکھو گے ، لہٰذا تم اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2189
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الظلال (752 و 753)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/مناقب الأنصار 8 (3792) ، والفتن 2 (7057) ، صحیح مسلم/الإمارة 11 (1845) ، سنن النسائی/آداب القضاة 4 (5385) ( تحفة الأشراف : 148) ، و مسند احمد (4/351، 352) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2190
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا " ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے بعد عنقریب ( غلط ) ترجیح اور ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم برا جانو گے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” تم حکام کا حق ادا کرنا ( ان کی اطاعت کرنا ) اور اللہ سے اپنا حق مانگو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی حکام اگر ایسے لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دیں جو قابل ترجیح نہیں ہیں تو تم صبر سے کام لیتے ہوئے ان کی اطاعت کرو اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو، کیونکہ اللہ نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2190
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المناقب 25 (3603) ، والفتن 2 (7052) ، صحیح مسلم/الإمارة 10 (1843) ( تحفة الأشراف : 9229) ، و مسند احمد (1/384، 387، 433) (صحیح)»