حدیث نمبر: 2183
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ : أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَةٍ ، وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ : طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَالدَّابَّةَ ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ : خَسْفٍ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ ، فَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا ، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا ، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو ! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا ، یاجوج ماجوج کا نکلنا ، دابہ ( جانور ) کا نکلنا ، تین بار زمین کا دھنسنا : ایک پورب میں ، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں ، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی ، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی ۔
حدیث نمبر: 2183M
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فُرَاتٍ نَحْوَهُ ، وَزَادَ فِيهِ : الدُّخَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، اور اس میں «الدخان» ( دھواں ) کا اضافہ کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2183M
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ ، عَنْ سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` اسی جیسی حدیث مروی ہے ، جیسی وکیع نے سفیان سے روایت کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2183M
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، وَالْمَسْعُودِيِّ، سمعا من فرات القزاز نحو حديث عبد الرحمن ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فُرَاتٍ ، وَزَادَ فِيهِ : الدَّجَّالَ أَوِ الدُّخَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسی جیسی حدیث مروی ہے ، جیسی عبدالرحمٰن نے «سفيان عن فرات» کی سند سے روایت کی ہے ، اور اس میں دجال یا «دخان» ( دھواں ) کا اضافہ کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2183M
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ فُرَاتٍ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ : " وَالْعَاشِرَةُ إِمَّا رِيحٌ تَطْرَحُهُمْ فِي الْبَحْرِ ، وَإِمَّا نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ ، وَصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسی جیسی حدیث مروی ہے جیسی ابوداؤد نے شعبہ سے روایت کی ہے ، اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دسویں نشانی ہوا کا چلنا ہے جو انہیں سمندر میں پھینک دے گی یا عیسیٰ بن مریم کا نزول ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث صحیح ہے ،
۲- اس باب میں علی ، ابوہریرہ ، ام سلمہ اور صفیہ بنت حي رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث صحیح ہے ،
۲- اس باب میں علی ، ابوہریرہ ، ام سلمہ اور صفیہ بنت حي رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: دس نشانیوں یہ ہیں: ۱- پچھم سے سورج کا نکلنا، ۲- یاجوج ماجوج کا نکلنا، ۳- دابہ (جانور) کا نکلنا، ۶- تین بار زمین کا دھنسنا، (پورب میں، پچھم میں اور جزیرہ عرب میں)، ۷- عدن سے آگ کا نکلنا، ۸- دھواں نکلنا، ۹- دجال کا نکلنا، ۱۰ - عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان دنیا سے نزول یعنی زمین پر اترنا، ایک اور نشانی کا ذکر ہے یعنی ہوا کا شاید اس سے مراد «دخان» (دھواں) ہو۔
حدیث نمبر: 2184
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْمُرْهِبِيِّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يَغْزُوَ جَيْشٌ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ ، خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ، وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنْ كَرِهَ مِنْهُمْ ، قَالَ : " يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ ( اللہ کے ) اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہیں آئیں گے ، یہاں تک کہ ایک ایسا لشکر لڑائی کرنے کے لیے آئے گا کہ جب اس لشکر کے لوگ مقام بیدا میں ہوں گے ، تو ان کے آگے والے اور پیچھے والے دھنسا دے جائیں گے اور ان کے بیچ والے بھی نجات نہیں پائیں گے ( یعنی تمام لوگ دھنسا دے جائیں گے ) “ ۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان میں سے جو ناپسند کرتے رہے ہوں ان کے افعال کو وہ بھی ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کے مطابق انہیں اٹھائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا صَيْفِيُّ بْنُ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ ، وَمَسْخٌ ، وَقَذْفٌ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا ظَهَرَ الْخُبْثُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس امت کے آخری عہد میں یہ واقعات ظاہر ہوں گے زمین کا دھنسنا ، صورت تبدیل ہونا اور آسمان سے پتھر برسنا “ ، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک کر دئیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، جب فسق و فجور عام ہو جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث عائشہ کی روایت سے غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- راوی عبداللہ بن عمر عمری کے حفظ کے تعلق سے یحییٰ بن سعید نے کلام کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث عائشہ کی روایت سے غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- راوی عبداللہ بن عمر عمری کے حفظ کے تعلق سے یحییٰ بن سعید نے کلام کیا ہے ۔