حدیث نمبر: 2181
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ ، وَحَتَّى تُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ ، وَشِرَاكُ نَعْلِهِ ، وَتُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ مِنْ بَعْدِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ درندے انسانوں سے گفتگو نہ کرنے لگیں ، آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارہ گفتگو کرنے لگے ، اس کے جوتے کا تسمہ گفتگو کرنے لگے اور اس کی ران اس کام کی خبر دینے لگے جو اس کی بیوی نے اس کی غیر حاضری میں انجام دیا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- قاسم بن فضل محدثین کے نزدیک ثقہ اور مامون ہیں ، یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کی توثیق کی ہے ،
۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- قاسم بن فضل محدثین کے نزدیک ثقہ اور مامون ہیں ، یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کی توثیق کی ہے ،
۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔