کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: ہاتھ، زبان یا دل سے منکر (بری باتوں) کو روکنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2172
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ لِمَرْوَانَ : خَالَفْتَ السُّنَّةَ ، فَقَالَ : يَا فُلَانُ ، تُرِكَ مَا هُنَالِكَ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُنْكِرْهُ بِيَدِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ` سب سے پہلے ( عید کے دن ) خطبہ کو صلاۃ پر مقدم کرنے والے مروان تھے ، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر مروان سے کہا : آپ نے سنت کی مخالفت کی ہے ، مروان نے کہا : اے فلاں ! چھوڑ دی گئی وہ سنت جسے تم ڈھونڈتے ہو ( یہ سن کر ) ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا : اس شخص نے اپنا فرض پورا کر دیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو شخص کوئی برائی دیکھے تو چاہیئے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے بدل دے ، جسے اتنی طاقت نہ ہو وہ اپنی زبان سے اسے بدل دے اور جسے اس کی طاقت بھی نہ ہو وہ اپنے دل میں اسے برا جانے ۱؎ اور یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: خود اس برائی سے الگ ہو جائے، اس کے ارتکاب کرنے والوں کی جماعت سے نکل جائے (اگر ممکن ہو)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2172
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1275)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإیمان 20 (177) ، سنن ابی داود/ الصلاة 248 (1140) ، والملاحم 17 (4340) ، سنن النسائی/الإیمان 17 (5012) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 155 (1275) ( تحفة الأشراف : 4085) ، و مسند احمد (3/10، 20، 40، 52، 53، 54، 92) (صحیح)»