کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2171
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الْجَيْشَ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِمْ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : لَعَلَّ فِيهِمُ الْمُكْرَهُ ، قَالَ : " إِنَّهُمْ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کا ذکر کیا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ، تو ام سلمہ نے عرض کیا : ہو سکتا ہے اس میں کچھ مجبور لوگ بھی ہوں ، آپ نے فرمایا : ” وہ اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، یہ حدیث «عن نافع بن جبير عن عائشة أيضا عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی آئی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دنیاوی عذاب میں تو مجبور اور بےبس لوگ بھی مبتلا ہو جائیں گے مگر آخرت میں وہ اپنے اعمال کے موافق اٹھائے جائیں گے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4065)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الفتن 30 (4065) ( تحفة الأشراف : 18216) (صحیح)»