حدیث نمبر: 2163
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَرَوَى ابْنُ لَهِيعَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ بَنَّةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عِنْدِي أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار لینے اور دینے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حماد بن سلمہ کی روایت سے حسن غریب ہے ،
۲- ابن لہیعہ نے یہ حدیث «عن أبي الزبير عن جابر عن بنة الجهني عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ،
۳- میرے نزدیک حماد بن سلمہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ،
۴- اس باب میں ابوبکرہ سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حماد بن سلمہ کی روایت سے حسن غریب ہے ،
۲- ابن لہیعہ نے یہ حدیث «عن أبي الزبير عن جابر عن بنة الجهني عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ،
۳- میرے نزدیک حماد بن سلمہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ،
۴- اس باب میں ابوبکرہ سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ننگی تلوار سے بسا اوقات خود صاحب تلوار بھی زخمی ہو سکتا ہے، اور دوسروں کو اس سے تکلیف پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔