حدیث نمبر: 2137
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ إِلَيْهِ الْمَلَكَ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعٍ يَكْتُبُ : رِزْقَهُ ، وَأَجَلَهُ ، وَعَمَلَهُ ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ ، ثُمَّ يَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ ، ثُمَّ يَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَنَسٍ ، وسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ ، قَال : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، يَقُولُ : مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم سے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ۱؎ ، ” تم میں سے ہر آدمی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی شکل میں رہتا ہے ، پھر اتنے ہی دن تک «علقة» ( یعنی جمے ہوئے خون ) کی شکل میں رہتا ہے ، پھر اتنے ہی دن تک «مضغة» ( یعنی گوشت کے لوتھڑے ) کی شکل میں رہتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے ، پھر اسے چار چیزوں ( کے لکھنے ) کا حکم کیا جاتا ہے ، چنانچہ وہ لکھتا ہے : اس کا رزق ، اس کی موت ، اس کا عمل اور یہ چیز کہ وہ «شقي» ( بدبخت ) ہے یا «سعيد» ( نیک بخت ) ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تم میں سے کوئی آدمی جنتیوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس کے اوپر لکھی ہوئی تقدیر غالب آتی ہے اور جہنمیوں کے عمل پر اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے ۔ لہٰذا وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے ، اور تم میں سے کوئی آدمی جہنمیوں کا عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کے اوپر لکھی ہوئی تقدیر غالب آتی ہے اور جنتیوں کے عمل پر اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے ، لہٰذا وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی سچے ہیں اور سچی بات آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2137
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (76)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (3208) ، وأحادیث الأنبیاء 1 (3393) ، صحیح مسلم/القدر 1 (2643) ، سنن ابی داود/ السنة 17 (4708) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (76) ( تحفة الأشراف : 9228) ، و مسند احمد (1/382، 414) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2137M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدٍ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، شعبہ اور ثوری نے بھی اعمش سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ،
۳- اس باب میں ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، شعبہ اور ثوری نے بھی اعمش سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ،
۳- اس باب میں ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2137M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (76)
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ (صحیح)»