کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2134
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى : يَا آدَمُ ، أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَقَالَ آدَمُ : وَأَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ عَمِلْتُهُ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ، قَالَ : فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ ، وَجُنْدَبٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدم اور موسیٰ نے باہم مناظرہ کیا ، موسیٰ نے کہا : آدم ! آپ وہی تو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی ۱؎ پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا ؟ آدم نے اس کے جواب میں کہا : آپ وہی موسیٰ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کرنے کے لیے منتخب کیا ، کیا آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے میرے اوپر لازم کر دیا تھا ؟ ، آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- حسن صحیح غریب ہے ،
۲- یہ حدیث اس سند سے یعنی سلیمان تیمی کی روایت سے جسے وہ اعمش سے روایت کرتے ہیں ،
۳- اعمش کے بعض شاگردوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ۔ اور بعض نے اس کی سند یوں بیان کی ہے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» ،
۴- کئی اور سندوں سے یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ،
۵- اس باب میں عمر اور جندب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ روح جو اللہ کی پیدا کردہ ہے، اور جس کا ہر ذی روح حاجت مند ہے۔
۲؎: صحیح مسلم میں اس کی تصریح ہے کہ آدم اور موسیٰ کا یہ مباحثہ اللہ رب العالمین کے سامنے ہوا۔ «واللہ اعلم»
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2134
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (80)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/احادیث الأنبیاء 31 (3409) ، وتفسیر طہ 1 (4736) ، و 2 (4738) ، والقدر 11 (6641) ، والتوحید 37 (7515) ، صحیح مسلم/القدر 2 (2652) ، سنن ابی داود/ السنة 17 (4701) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (80) ( تحفة الأشراف : 12389) ، و موطا امام مالک/القدر 1 (1) ، و مسند احمد (2/248، 268، 398) (صحیح)»